کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 29
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی زبان مبارک سے یہ کہلوا کر کہ میرا ہی راستہ سیدھا راستہ ہے، یہ واضح فرما دیا کہ میرے پیغمبر کا بتلایا ہوا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے اور پیغمبر اسلام کا راستہ کون سا ہے؟ قرآن کریم اور اس کی وہ قولی اور عملی تشریح ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ’’اورہم نے یہ قرآن آپ پر نازل کیا تاکہ آپ اس میں بیان کردہ ان احکام کی تبیین و تشریح کریں جو لوگوں کے لیے نازل کیے گئے ہیں۔‘‘[1]کے حکم کے تحت بیان فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ صراط مستقیم صرف قرآن و حدیث کااتباع ہے۔ اس کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اس طرح فرمائی، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خَطَّ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا سَبِیلُ اللّٰہِ، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ یَّمِینِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ وَقَالَ: ھٰذِہٖ سُبُلٌ، قَالَ یَزِیدُ۔: مُتَفَرِّقَۃٌ۔ عَلٰی کُلِّ سَبِیلٍ مِّنْھَا شَیْطَانٌ یَّدْعُو إِلَیْہِ، ثُمَّ قَرَأَ: وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا…}‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط کھینچا اور فرمایا: یہ اللہ کا راستہ ہے۔ اور کچھ خطوط اس کے دائیں جانب اور کچھ خطوط اس کی بائیں جانب کھینچے اور فرمایا: یہ مختلف راستے ہیں اور ان میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہوا ہے، وہ ان کی طرف لوگوں کو بُلاتا ہے۔ اور پھر آپ نے (سورۂ انعام 153:6کی) آیت: ’’اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے …‘‘ پڑھی۔‘‘[2] قرآن کریم میں بھی صراط مستقیم کے لیے واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور [1] النحل 44:16۔ [2] مسند أحمد: 435/1، والمستدرک للحاکم: 318/2۔