کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 289
رابعاً: حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ جیسے اور سیکڑوں بزرگ ہماری تاریخ میں گزرے ہیں، ان کے یوم وفات پر ایسا کیوں نہیں کیا جاتا؟ جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی وفات والے دن ہی ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ اس تخصیص کی بنیاد اور دلیل کیا ہے؟ خامساً: دین کی تکمیل تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہوچکی ہے: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ)[1] اب تکمیل شریعت کے بعد کسی کو دین میں اضافہ کرنے کی اجازت کب ہے؟ بہرحال جس لحاظ سے بھی اس رسمِ بدعی کاجائزہ لیاجائے، اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں، اس لیے بلا امتیاز ہر طبقہ کے محقق علماء نے اس کی بے اصلیت ظاہر کردی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کونڈے دراصل اسی طرح حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے نام کی نیاز ہیں، جس طرح دوسرے کئی بزرگوں کے ناموں کی نیاز دی جاتی ہے۔ تب بھی یہ بہت بڑا گناہ ہے بلکہ شرک ہے کیونکہ نذر و نیاز بھی عبادت ہی کی ایک قسم ہے اور عبادت صرف اللہ ہی کا حق ہے، اس کے سوا کسی کی بھی عبادت جائز نہیں بلکہ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرے گا (کسی اور کے نام کی نذر و نیاز دے گا) تو وہ مشرک قرار پائے گا جیسا کہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب دُرِّ مختار کی حسب ذیل عبارت پہلے بھی گزرچکی ہے: وَاعْلَمْ أَنَّ النَّذْرَ الَّذِي یَقَعُ لِلْأَمْوَاتِ مِنْ أَکْثَرِ الْعَوَامِّ وَمَا یُؤْخَذُ مِنَ الدَّرَاہِمِ وَالشَّمَعِ وَالزَّیْتِ وَنَحْوِہَا إِلٰی ضَرَائِحِ الأَْوْلِیَائِ [1] المآئدۃ 3:5۔