کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 28
1 دین اسلام کی تکمیل کا اعلان۔ 2 اس کو اپنی نعمت قرار دے کر اس کے اتمام کی وضاحت۔ 3 اور اس کو اپنا پسندیدہ دین قرار دینا۔ تکمیل کے اعلان سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اب اس دین میں، جس کو قرآن و حدیث میں محفوظ کر دیا گیا ہے، کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی واضح ہو گیا کہ اب ہدایت و نجات بھی صرف قرآن و حدیث ہی پر عمل کرنے پر منحصر ہے۔ کوئی کمی بیشی کرے گا، وہ بھی نامنظور اور جو ان سے انحراف کرے گا، وہ بھی نامقبول، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’تَرَکْتُ فِیکُمْ أَمْرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہٖ‘ ’’میں تمھارے اندر دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، جب تک تم ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہوگے، (وہ دو چیزیں ہیں) اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔‘‘[1] یہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چلنے والا ہی جنت میں جائے گا: (وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ) ’’اور بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس تم اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی طرف مت جانا، وہ تمھیں اس سیدھے راستے سے بھٹکا دیں گے۔‘‘[2] [1] الموطأ للإمام مالک: 281,280/4، حدیث: 1773 مرسلاً، والمستدرک للحاکم: 93/1 موصولاً۔ [2] الأنعام 153:6۔