کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 279
دے دوں جس کو بحکم الٰہی قبض کر چکا ہوں۔ آپ نے اصرار کیا مگر ملک الموت نہ مانے۔ ان کے ایک ہاتھ میں ٹوکری تھی جس میں اس دن کی ارواح مقبوضہ تھیں۔ پس قوتِ محبوبیت سے ٹوکری ان کے ہاتھ سے چھین لی تو ارواح متفرق ہوکر اپنے اپنے بدنوں میں چلی گئیں۔ عزرائیل علیہ السلام نے اپنے رب سے مناجات کی اور عرض کیا: الٰہی تو جانتا ہے جو میرے اور تیرے محبوب کے درمیان گزری، اس نے مجھ سے آج کی تمام مقبوضہ ارواح چھین لی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا: اے عزرائیل! بے شک غوثِ اعظم میرا محبوب و مطلوب ہے تو نے اس کے خادم کی روح واپس کیوں نہ دے دی۔ اگر ایک روح واپس دے دیتا تو اتنی روحیں ایک روح کے سبب کیوں واپس جاتیں۔‘‘[1] مقامِ غور سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس ہستی کا وہ مقام ہے جو اس نظم اور من گھڑت ’’کرامات‘‘ میں بیان کیا گیا ہے، کیا وہ کسی کے ایصالِ ثواب کی محتاج ہوسکتی ہے؟ بقول تمھارے وہ تو قاضی الحاجات ہے، مشکل کشا ہے، وہ دونوں جہانوں میں لوگوں کا سہارا ہے، تمام انس وجن پر اس کا تصرُّف ہے، اسی طرح کی دیگر خدائی صفات کی وہ مالک ہے، کیا وہ اس بات کی محتاج ہے کہ ہم اس کے لیے ایصالِ ثواب کریں؟ ایصالِ ثواب تو مغفرت یا رفع درجات کے لیے کیا جاتا ہے تو جس کا درجہ اتنا بلند ہوکہ اس کا حکم ہر حال میں نافذ ہونے والا ہے، یعنی اسے کوئی ٹال نہیں سکتا، اس کا چاہا اوراللہ کا چاہا ایک ہے، یعنی اللہ سے وہ جدا نہیں، کائنات کی کسی چیز کا اس سے پردہ نہیں، یعنی وہ عالم الغیب و الشھادۃ ہے۔ ایسی ہستی کے لیے ایصالِ ثواب کیا معنی؟ [1] کراماتِ غوث اعظم از محمد شریف نقشبندی، صفحہ: 93,92۔