کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 272
اسی طریقے سے جانوروں کے علاوہ جو اشیاء بھی غیر اللہ کے نام پر نذرونیاز اور چڑھاوے کی ہوں گی، حرام ہوں گی، جیسے قبروں پر لے جاکر یا وہاں سے خرید کر، قبور کے ارد گرد فقرا ء و مساکین پر دیگوں اورلنگروں کی یا مٹھائی اور پیسوں وغیرہ کی تقسیم یا وہاں صندوقچی میں نذر و نیاز کے پیسے ڈالنا یا عرس کے موقع پر وہاں دودھ پہنچانا، یہ سب کام حرام اور ناجائز ہیں کیونکہ یہ سب غیر اللہ کی نذرو نیاز کی صورتیں ہیں اورنذر بھی نماز، روزہ وغیرہ عبادات کی طرح ایک عبادت ہے اور عبادت کی ہر قسم صرف ایک اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ اسی لیے حدیث میں ہے : ’مَلْعُونٌ مَّنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ‘ ’’جس نے غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیا وہ ملعون ہے۔‘‘[1] تفسیر رازی میں ہے: ’قَالَ الْعُلَمَائُ: لَوْ أَنَّ مُسْلِمًا ذَبَحَ ذَبِیحَۃً یُّرِیدُ بِذِبْحِھَا التَّقَرُّبَ إِلٰی غَیْرِ اللّٰہِ، صَارَ مُرْتَدًّا وَ ذَبِیحَتُہٗ ذَبِیحَۃُ مُرْتَدٍّ‘ ’’علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی مسلمان نے کوئی جانور غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کیا تو وہ مرتد ہوجائے گا اوراس کا ذبیحہ ایک مرتد کا ذبیحہ ہوگا۔‘‘[2] ایک مغالطے یا شبہے کا ازالہ بعض لوگ کہتے، مغالطے میں ڈالتے یا شبہے میں مبتلا کرتے ہیں کہ ہم تو، بسم اللّٰہ [1] مسند أحمد: 217/1 و 317، و صحیح الجامع الصغیر: 1024/2، حدیث: 5891۔ [2] تفسیر الرازي: 12/5۔