کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 271
٭ اور ایک وجہ یہ ہے کہ نذر دینے والا شخص مردوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اللہ کے سوا کائنات میں تصرُّف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، حالانکہ مردوں کے متعلق ایسا عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے۔‘‘ غیر اللہ کے نام کی نذر ، (وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّٰهِ ۖ)کی مصداق ہے فقہ حنفی کی اس صراحت کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ فوت شدہ بزرگوں کے نام پر جو نذر و نیاز دی جاتی ہے، یہ ایصالِ ثواب نہیں بلکہ ان کی عبادت ہے۔ علاوہ ازیں یہ نذرنیازیں (وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّٰهِ ۖ)[1]کی مصداق ہیں، اس لیے حرام ہیں کیونکہ (وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّٰهِ ۖ)کا مطلب ہے کہ وہ جانور یا کوئی اور چیز جسے غیر اللہ کے نام پر پکاراجائے۔ اس سے مراد وہ جانور ہیں جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے جائیں، جیسے مشرکینِ عرب لات و عزّیٰ اور مناۃ و ہبل وغیرہ بتوں کے ناموں پر ذبح کرتے تھے۔ یا آگ کے نام پر مجوسی کرتے تھے۔ اوراسی میں وہ جانور بھی آجاتے ہیں جو جاہل مسلمان فوت شدہ بزرگوں کی عقیدت و محبت، ان کی خوشنودی و تقرب حاصل کرنے کے لیے یا ان سے ڈرتے اور امید رکھتے ہوئے، قبروں اور آستانوں پر ذبح کرتے ہیں یا مجاورین کو بزرگوں کی نیاز کے نام پردے آتے ہیں (جیسے بہت سے بزرگوں کی قبروں پر بورڈ لگے ہوئے ہیں، مثلاً: ’’داتا‘‘ صاحب کی نیاز کے بکرے یہاں جمع کرائے جائیں) ان جانوروں کو، چاہے ذبح کے وقت اللہ ہی کا نام لے کر ذبح کیاجائے، یہ حرام ہی ہوں گے کیونکہ اس سے مقصود، رضائے الٰہی نہیں، رضائے اہل قبور اور تعظیم لغیر اللہ یا خوف یارَجَا عن غیر اللہ (غیر اللہ سے مافوق الاسباب طریقے سے ڈر یا امید) ہے، جو شرک ہے۔ [1] البقرۃ 173:2۔