کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 270
الْکِرَامِ تَقَرُّبًا إِلَیْہِمْ فَہُوَ بِالإِْجْمَاعِ بَاطِلٌ وَحَرَامٌ‘ ’’معلوم ہونا چاہیے کہ اکثر عوام، مردوں کے نام پر جو نذریں و نیازیں دیتے ہیں۔ چڑھاوے چڑھاتے ہیں، اولیائے کرام کا تقرب حاصل کرنے کے لیے مالی نذرانے پیش کرتے ہیں اوران کی قبروں پر چراغ اور تیل جلاتے ہیں وغیرہ، یہ سب چیزیں بالاجماع باطل اور حرام ہیں۔‘‘ دُرِّ مختار کی مشہور شرح ردّ المحتار(المعروف فتاویٰ شامی) میں اس کی شرح یوں کی گئی ہے: ’قَوْلُہٗ بَاطِلٌ وَّحَرَامٌ لِوُجُوہٍ مِّنْہَا: أَنَّہٗ نَذْرٌ لِمَخْلُوقٍ، وَالنَّذْرُ لِلْمَخْلُوقِ لَا یَجُوزُ لِأَنَّہٗ عِبَادَۃٌ، وَالْعِبَادَۃُ لَا تَکُونُ لِمَخْلُوقٍ۔ وَّ مِنْہَا: أَنَّ الْمَنْذُورَ لَہٗ مَیِّتٌ، وَّالْمَیِّتُ لَا یَمْلِکُ۔ وَ مِنْہَا: أَنَّہٗ إِنْ ظَنَّ أَنَّ الْمَیِّتَ یَتَصَرَّفُ فِي الْأُمُورِ دُونَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَاعْتِقَادُہٗ ذٰلِکَ کُفْرٌ‘[1] یعنی ’’اس نذر غیر اللہ کے باطل اور حرام ہونے کی کئی وجوہ ہیں جن میں سے ایک یہ ہے: ٭ یہ قبروں کے چڑھاوے وغیرہ مخلوق کے نام کی نذریں ہیں اور مخلوق کے نام کی نذر جائز ہی نہیں، اس لیے کہ (نذر بھی) عبادت ہے اور عبادت کسی مخلوق کی جائز نہیں۔ ٭ اور ایک وجہ یہ ہے کہ منذور لہ (جس کے نام کی نذر دی جاتی ہے) مردہ ہے اور مردہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ [1] رد المحتار: 431/2، طبع مصر 1966ء ۔