کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 269
رسول اللہ نے خلعت پہنایا برسر مجلس بجے کیونکر نہ پھر عالم میں ڈنکا غوثِ اعظم کا ہمارا ظاہر و باطن ہے ان کے آگے آئینہ کسی شے سے نہیں عالم میں پردہ غوثِ اعظم کا[1] نظم کا ایک ایک شعر ملاحظہ فرما لیجیے کہ کس فراخ دلی سے تمام خدائی صفات کا اثبات ایک فوت شدہ بزرگ کے حق میں کیا گیا ہے۔ فنعوذ باللّٰہ من ھذہ العقیدۃ الفاسدۃ۔ گیارہویں دراصل پیر جیلانی کے نام کی نذر ہے جو ان کی عبادت ہے اس سے صاف واضح ہے کہ گیارھویں کا مقصد ایصالِ ثواب قطعاً نہیں بلکہ یہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام کی نذر و نیاز ہے جس سے مقصود، اللہ تعالیٰ کی طرح، ان کو راضی کرنا اوران کے عتاب و غضب سے بچنا ہے۔ ایک اللہ والا توحید کا پرستار یہ کام صرف اللہ کے لیے کرتا ہے اور وہ اللہ ہی کے نام پر نذر و نیاز دیتا ہے کیونکہ نذرو نیاز بھی، نماز و زکاۃ وغیرہ کی طرح عبادت ہے جو صرف اللہ ہی کے لیے ہوسکتی ہے، کسی اور کے لیے نہیں، خود فقہ حنفی میں بھی اس کی صراحت موجود ہے، یعنی اس بات کی کہ نذر و نیاز عبادت ہے، اس لیے یہ کسی مخلوق کے لیے جائز نہیں۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو یہ کفر ہوگا۔ لیجیے! ملاحظہ فرمائیے: ’وَاعْلَمْ أَنَّ النَّذْرَالَّذِي یَقَعُ لِلْأَمْوَاتِ مِنْ أَکْثَرِ الْعَوَامِّ وَمَا یُؤْخَذُ مِنَ الدَّرَاہِمِ وَالشَّمْعِ وَالزَّیْتِ وَنَحْوِہَا إِلٰی ضَرَائِحِ الْأَوْلِیَائِ [1] ماہنامہ’’رضائے مصطفی‘‘ گوجرانوالہ، جلد: 15، شمارہ: 6، مئی: 1973ء۔