کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 255
٭اسراف و تبذیر اور ٭افراط و غلو کا مظاہرہ ٭تعین کے ساتھ صدقہ و خیرات کرنا۔ ان میں سے کوئی جز بھی اسلامی نہیں ہے، پھر اس کو اسلامی ثقافت یا مسلمانوں کی ثقافت کس طرح تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ یا ثقافت کے نام پر غیروں کی اس نقالی کو کیوں کر جائز یا اجرو ثواب کا باعث سمجھا جاسکتا ہے؟ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پہلے معاشرت سادہ تھی، اب آسائشوں اور سہولتوں کی فراوانی ہے۔ لیکن ان کا تعلق تو مادی اسباب و وسائل سے ہے، پہلے یہ وسائل کم تھے، اب وسائل کی فراوانی ہے جس کی وجہ سے معاشرت میں سادگی کی بجائے آسائشوں کے استعمال میں زیادتی آگئی ہے اور ایسے حالات میں جب اللہ تعالیٰ اسباب و وسائل سے نوازے، شریعت اسلامیہ میں ان سے فیض یاب ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی پر انعام و اکرام فرمائے تو وہ اس بات کو پسند فرماتاہے کہ اس کے اثرات بھی اس شخص میں نظر آئیں۔[1] اس اعتبار سے اگر کوئی شخص اللہ کے دیے ہوئے وسائل سے اچھا مکان بنا لیتا ہے، اچھی بودوباش اختیار کرتا ہے، اچھی خوراک استعمال کرتا ہے بشرطیکہ وہ اسراف اور تکبر سے بچتا ہے تو یہ نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔ لیکن ان مادی اسباب و وسائل کو استعمال کرنے والا کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ سادہ مکان کی بجائے اچھا مکان بنا کر رہنے میں اجروثواب زیادہ ہے، سادہ خوراک کی بجائے اچھی خوراک کی فضیلت زیادہ ہے، سادہ لباس کی بجائے بیش قیمت لباس پہننے کا اجر مجھے زیادہ ملے گا۔ وغیرہ۔ [1] جامع الترمذي، الأدب، باب ماجاء أن اللّٰہ تعالٰی یحب أن یری …، حدیث: 2819۔