کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 250
ازالہ: یہ حدیث ثابت ہی نہیں ہے۔ ’قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي مُصَنَّفِہٖ… أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَرَّرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰه عليه وسلم عَقَّ عَنْ نَّفْسِہٖ بَعْدَ النُّبُوَّۃِ‘ امام ابن قیم اس حدیث کو عبدالرزاق کے حوالے سے بیان کرنے کے بعد عبدالرزاق کا یہ قول بیان کرتے ہیں: ’إِنَّمَا تَرَکُوا ابْنَ مُحَرَّرٍ بِھٰذَا الْحَدِیثِ‘ ’’انھوں (محدثین) نے ابن محرر کو اس حدیث کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے۔‘‘[1] حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ’’یہ حدیث ثابت نہیں۔‘‘ بزار کہتے ہیں: اس حدیث کو بیان کرنے والا اکیلا عبداللہ بن محرر ہے اور وہ ضعیف ہے۔[2] امام نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِي ذَکَرَہٗ فِي عَقِّ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم عَنْ نَّفْسِہٖ فَرَوَاہُ الْبَیْہَقِيُّ بِإِسْنَادِہٖ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَرَّرٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ…الخ۔ ھٰذَا حَدِیثٌ بَاطِلٌ وَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَرَّرٍ ضَعِیفٌ، مُتَّفَقٌ عَلٰی ضُعْفِہٖ، قَالَ الْحُفَّاظُ: ھُوَ مَتْرُوکٌ۔ عقیقہ والی حدیث کو امام بیہقی عبداللہ بن محرر عن قتادہ عن انس سے بیان کرتے ہیں۔ یہ حدیث باطل ہے۔ عبداللہ بن محرر ضعیف ہے اور اس کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے۔ حفاظ حدیث کہتے ہیں: ’’یہ متروک ہے۔‘‘[3] [1] تحفۃ المودود، ص: 93۔ [2] فتح الباري: 737,736/9۔ [3] المجموع شرح المہذب: 12/8۔