کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 246
میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ میں نے بتایا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، انھوں نے ناپسندیدہ نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا: ’ھٰذَا یَوْمُ فَرَحٍ وَّ سُرُورٍ یُسْتَقْبَحُ فِي مِثْلِہِ الصَّوْمُ کَالْعِیدِ‘ ’’یہ خوشی اور لطف اندوز ہونے کا دن ہے۔ عید کی طرح اس دن بھی روزہ رکھنا انتہائی بری بات ہے۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سات دنوں کو مسلمانوں کے لیے عید قرار دیا ہے: ٭ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور ان لوگوں کے ہاں دو دن مقرر تھے، ان میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے۔ آپ نے پوچھا: ’’یہ دو دن کیا ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا: ہم دورِ جاہلیت میں ان دنوں میں کھیلتے کودتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِھِمَا خَیْرًا مِنْھُمَا: یَوْمَ الْأَضْحٰی، وَیَوْمَ الْفِطْرِ‘ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے بدلے ان سے اچھے دن دیے ہیں۔ أضحٰی (قربانی) اور فطر کا دن۔‘‘[2] ٭ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’یَوْمُ عَرَفَۃَ وَیَوْمُ النَّحْرِ وَأَیَّامُ التَّشْرِیقِ عِیدُنَا، أَھْلَ الإِْسْلَامِ، وَھِيَ أَیَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ‘ [1] القول الفصل في حکم الاحتفال بمولد الرسل، ص: 633۔ [2] سنن أبي داود، الصلاۃ، باب صلاۃ العیدین، حدیث: 1134۔