کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 244
اور بہت سی دوسری احادیث ہیں جن کا ذکر مقدمہ میں گزر چکا ہے۔ (2) عید میلاد النبی کے لیے اس حدیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُّ فِیہِ، وَیَوْمٌ بُعِثْتُ فِیہِ‘ ’’اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھے نبوت عطا کی گئی۔‘‘[1] آپ اپنے یوم پیدائش کی تعظیم کیا کرتے تھے اور اپنی پیدائش کی خوشی میں روزہ رکھا کرتے تھے۔ ازالہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پیر کو روزہ نہیں رکھا کرتے تھے بلکہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی: ’تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیسِ، فَأُحِبُّ أَنْ یُّعْرَضَ عَمَلِِي وَأَنَا صَائِمٌ‘ ’’پیر اورجمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بات پسند ہے، جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر پیر کو روزہ رکھا کرتے تھے نہ کہ صرف بارہ ربیع الاول کو۔ اس حدیث سے تو محض اس قدر ہی استدلال ہوسکتاہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے، باقی سرگرمیوں کا جواز کہاں سے نکل سکتا ہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ واضح طور پر ارشاد فرماتا ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿١﴾) [1] صحیح مسلم، الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ…، حدیث: 1162۔ [2] جامع الترمذي،الصوم، باب ماجاء في صوم یوم الاثنین والخمیس، حدیث: 747۔