کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 241
ایک ایک حرکت پیغمبر اسلام کے کارناموں پر خط نسخ پھیر رہی ہو، کون سا دانش مندانہ فعل ہے؟ اور یہ عقل و فہم کا کون سا صحیح استعمال ہے کہ نسخۂ کیمیا بھی موجود ہو اور مریض جاں بلب بھی سامنے پڑا کراہ رہا ہو لیکن ہم اس نسخۂ کیمیا سے جاں بلب مریض کا علاج کرنے کی بجائے اس امر کا اہتمام کریں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا اجتماع کرکے ہم ان کے سامنے اس نسخۂ کیمیا کے وہ اثرات و نتائج اور فوائد بیان کریں جو آج سے چودہ سو سال پہلے جاں بلب قوم کو اس کے استعمال سے حاصل ہوئے تھے۔ ہماری اس حرکت سے دنیا یا تو ہمیں ہی احمق تصور کرے گی یا پھر ان کارناموں کو ہی داستان طرازی سمجھے گی جو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ضمن میں بیان کرتے ہیں اور جو سیرت کانفرنسوں کا خاص موضوع ہوتے ہیں۔ بہرحال اخلاقی انحطاط سے دو چار قوم کو سیرت گوئی کی نہیں، سیرت سازی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں اگر کچھ کرسکتے یا کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو سیرت سازی کا یہ کام کرئیے! اگر یہ نہیں تو پھر کچھ نہیں بابا (قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ) ’’(اے پیغمبر!) آپ کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہ معاف کردے گا۔‘‘[1] میلاد النبی۔ شبہات کا ازالہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ، تابعین اور مشہور ائمہ کے عہد میں میلاد النبی کی محفلیں منعقد کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن ان کے جواز کے لیے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم [1] آل عمران: 3/31