کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 239
چیز عمل ہے، اس کے بغیر محض زبانی عقیدت و محبت کا اظہار کوئی چیز نہیں۔ تَعْصِي الإِْلٰہَ وَأَنْتَ تَزْعُمُ حُبَّہٗ ھٰذَا مَحَالٌ، فِي الْقِیَاسِ بَدِیعُ لَوْ کَانَ حُبُّکَ صَادِقًا لَأَطَعْتَہٗ إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُّحِبُّ مُطِیعُ[1] کیا محض سیرت کانفرنسوں کا انعقاد اور مروجہ رسومات کا اہتمام ہی کافی ہے؟ ربیع الاول میں ’’عقیدت و محبت‘‘ کے عنوان سے جو کچھ کیا جاتا ہے، جیسے جلوس نکالاجاتا ہے جس میں دنیا بھر کی بے ہودگیاں روا رکھی جاتی ہیں، چمٹے بجائے جاتے ہیں، فلمی دھنوں پر نعتیں پڑھی جاتی ہیں، بھنگڑا ڈالا جاتا ہے اور ڈھولک کی تھاپ پر رقص کیا جاتا ہے، بھلا ان چیزوں کا اسلام سے کیا تعلق؟ اسلام نے تو ان سب چیزوں کو مٹایا تھا۔ اب پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہی ان خرافات کا احیا کس قدر شوخ چشمانہ جسارت ہے۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ حکومت جس کا دعویٰ ہے کہ اسلام اس کا دین ہے، ان ایجاد بندہ رسومات کا سد باب کرتی، اس لیے کہ اسلام کی ابتدائی چھ صدیوں میں یوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حیثیت نہیں دی گئی نہ کوئی مولود کو جانتا تھا، نہ کوئی اس کو پڑھتا تھا نہ ’’مناتا‘‘ تھا۔ عہد نبوی، عہد صحابہ و تابعین حتی کہ چاروں مذہبوں کے امام اور ان کے تلامذہ سے کوئی اس کی اصل نہیں ملتی اور دین کے نام پر کیے گئے ایسے نئے کام اسلام میں بدعت کہلاتے ہیں۔ ہر اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ ایسی بدعات کا قلع قمع کرے لیکن افسوس کہ ہماری حکومتوں کے طرز عمل سے ان ’’رسومات‘‘ کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ وزارت مذہبی امور اور محکمۂ اوقاف کی طرف سے جو سیرت کانفرنسیں مسلسل کئی [1] زاد المعاد: 194/4۔