کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 234
(4) پھر خوشی یا ’’جشن‘‘ منانے کا یہ انداز، جس کا مظاہرہ 12ربیع الاول کو کیا جاتا ہے، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش بھی ہے؟ خوشی کے موقع پر جلوس نکالنا، چراغاں کرنا، لڈیاں، بھنگڑے اور دھمالیں ڈالنا، دین اسلام سے ان کا کوئی تعلق بھی ہے؟ جواب یقینا نفی میں ہوگا۔ اسلام نے ہمارے لیے دو عیدیں مقرر فرمائی ہیں۔ لیکن ان میں نماز پڑھنے اور تکبیر و تہلیل ہی کا حکم ہے۔ اس کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں۔ لیکن تیسری ’’عید میلاد‘‘ جو بنالی گئی ہے۔ اس میں تکبیر و تہلیل کے علاوہ سب کچھ کیا جاتا ہے بلکہ بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ سارا انداز غیر اسلامی ہے جس کا دین اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ جس طرح اپنے اکابر کا ’’یوم‘‘ منانا ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ اسی طرح زیر بحث ’’جشن میلاد‘‘ منانے کا انداز بھی از اول تا آخر غیر اسلامی ہے۔ بلکہ کفار کی نقالی اوران کی مشابہت ہے، حالانکہ ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے: ’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ‘ ’’جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انھی میں سے سمجھا جائے گا۔‘‘[1] بہرحال جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے ’’جشن میلاد‘‘ کی کوئی شرعی و دینی حیثیت سمجھ میں نہیں آئے گی۔ یہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر ایسا کھوکھلا مظاہرۂ عقیدت ہے جس کی تائید نہ قرآن سے ہوتی ہے نہ حدیث سے، نہ صحابہ و تابعین کے کردار سے اور نہ ائمۂ دین کے اقوال و افعال سے۔ (5) پھر سب سے زیادہ قابل غور بات تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز تو آپ کی ولادت نہیں رسالت ہے۔ یوم رسالت ہی سے مسلمانوں کو وہ توحید [1] سنن أبي داود، اللباس، باب في لبس الشھرۃ، حدیث: 4031۔