کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 233
صحیح البخاري، الصلح، باب: إذا اصطلحوا علی صلح جور…، حدیث: 2697، و صحیح مسلم، الأقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ…، حدیث: 1718۔ ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔‘‘[1] جب یہ واضح ہوگیا کہ ’’عید میلاد‘‘ کا کوئی شرعی ثبوت نہیں نہ صحابہ و تابعین اور ائمۂ دین (امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہم ) اور دیگر ائمہ نے اسے منایا۔ بلکہ خیرالقرون کے کئی سو سال کے بعد اس کی ایجاد ہوئی تو یہ کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ’’بدعت‘‘ ہی قرار پائے گا۔ اب آپ خود سوچ لیں کہ بدعت کا ارتکاب کرکے آپ ’’ثواب‘‘ کمارہے ہیں یا اپنی تمام نیکیاں ہی برباد کررہے ہیں؟ (3) نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بارے میں اکثر اہل علم و اہل تاریخ کا قول ہے کہ 12ربیع الاول کو ہوئی ہے۔ اسی لیے 12ربیع الاول کا دن ’’بارہ وفات‘‘ کے نام سے مشہور چلا آرہا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت کے بارے میں اختلاف ہے۔ علمائے محققین نے تو 8 یا 9ربیع الاول ہی کو آپ کا یوم ولادت صحیح بتلایا ہے۔[2] تاہم بارہ ربیع الاول ہی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت بھی تسلیم کر لیا جائے (جیسا کہ اس روز جشن ولادت منایا جاتا ہے) تو ظاہر ہے کہ یہی روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بھی ہے۔ اس اعتبار سے ذرا سوچیے! کہ کیا نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات والے دن ’’جشن‘‘ منانا صحیح ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم آپ سے پوچھ بیٹھے کہ بھئی! یہ تم اپنے نبی کی وفات کا ’’جشن‘‘ منا رہے ہو یا ولادت کا؟ کیونکہ یہ تاریخ توآپ کی وفات کی بھی ہے تو اس کا کیا معقول جواب ہمارے پاس ہے؟ [1] سنن النسائي، صلاۃ العیدین، باب کیف الخطبۃ، حدیث: 1579۔ [2] ملاحظہ ہو مقالہ ’’السیرۃ النبویۃ، توقیتي مطالعہ‘‘ (از پروفیسر ظفر احمد سابق صدر شعبۂ علوم اسلامیہ، گورنمنٹ ایس ای کالج، بہاول پور۔ پنجاب۔) ص 223-219، شائع شدہ در رسالہ شش ماہی ’’السیرۃ، عالمی‘‘ کراچی (شمارہ 14، اکتوبر 2005۔) اس مقالے میں نہایت تفصیل سے توقیتی حساب سے 12 ربیع الاول ہی کو یومِ وفات اور 8 ربیع الاول کو یوم ولادت ثابت کیا گیا ہے۔