کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 225
فِي الْوَقْتِ الَّذِي دَخَلَ فِیہِ الْمَدِینَۃَ لِاثْنَتَيْ عَشْرَۃَ خَلَتْ مِنْ رَبِیعِ الْأَوَّلِ‘ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس بیماری کا آغاز جس میں آپ کی وفات ہوئی، 11ھ کے اواخر صفر میں بدھ کے دن جبکہ ماہ صفر کی دو راتیں باقی رہ گئی تھیں، حضرت اُمّ المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں ہوا، پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدّت اختیار کر گئی تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہوگئے اور بارہ ربیع الاوّل بروز پیر بوقت چاشت جس وقت آپ مدینہ میں داخل ہوئے تھے، آپ کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔‘‘[1] ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لیکن عجیب بات ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے بہت سے مسلمان گھرانوں میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ وہ صفر کے آخری بدھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’یومِ غسلِ صحت‘‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ اس روز صبح سویرے باغوں کی چہل قدمی کو اجروثواب کا باعث سمجھتے ہیں اور اس خوشی میں بہت سی جگہ تعطیل بھی ہوتی ہے اور اب چند سالوں سے ’’چہار شنبہ‘‘ کا جلوس بھی نکلتا ہے۔ اَوّل تو ’’یوم‘‘ منانے کی رسم کا کوئی تعلق ہی اسلام سے نہیں ہے۔ یہ خالص کافر قوموں کا شعار ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ِ سعادت اورخیر القرون میں بڑے بڑے اہم واقعات رُونما ہوئے۔ بڑے بڑے معرکے مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت اور اپنی ایمانی قوت سے سَرکیے اور اولو العزمی و سرفروشی کے انمٹ نقوش جریدئہ عالم پر ثبت کیے لیکن ان میں سے کسی بھی اہم واقعے اور فتح کو ’’یوم‘‘ کے طور پر نہیں منایا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا دَورِ رسالت بھی اس سے خالی ہے، خلافت راشدہ میں اس کا نام و [1] أسد الغابۃ: 144/1، طبع دارالکتب العلمیہ (بیروت) ۔