کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 222
عرب مبتلا تھے، یعنی ان کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد مرنے والے کی روح یا اس کی ہڈیاں پرندہ بن جاتی ہیں جس طرح ہندوؤں کا عقیدہ بھی ہے کہ مرنے والے کی روح کسی جانور میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ گویا عقیدئہ آخرت اور اس کے حساب کتاب کا انکار ہے۔ 4 وَلَا صَفَرکا ایک مطلب عربوں کے طریقۂ نَسِئ کا انکار ہے، جس کی بابت قرآن نے کہا ہے: (إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ۖ)’’نسئ کفر میں زیادتی ہے۔‘‘[1] نسئ کا مطلب ہے کہ امن کے مہینے کو آگے پیچھے کر لینا۔ جاہلیت میں مبتلا عرب یہ کیا کرتے تھے کہ اگر ان کو کسی حرمت والے مہینے میں قتال و جدال یا لوٹ مار کی ضرورت لاحق ہوتی تو وہ اس مہینے کی حرمت توڑ کر اپنی من مانی کر لیتے اور اس حرمت والے مہینے کی جگہ کسی اور مہینے کو حرمت والا قرار دے کر حرمت والے چار مہینوں کی گنتی پوری کر لیتے، جیسے کسی سال محرم کی بجائے صفر کو حرمت والا مہینہ قرار دے لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان لَا صَفَر کا مطلب ہے کہ آئندہ اس طرح نہیں ہو گا۔ اور وہی مہینے حرمت والے رہیں گے جو ابتدائے کائنات ہی سے حرمت والے چلے آرہے ہیں، ان میں کوئی شخص ردّو بدل کا مجاز نہیں ہے۔ اس بات کااعلان اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی فرمایا ہے: (إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ) ’’بلاشبہ اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اس دن سے ہی جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار مہینے [1] التوبۃ 37:9۔