کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 221
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَّنْفَعُوکَ بِشَيْئٍ لَمْ یَنْفَعُوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ، وَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوکَ بِشَيْئٍ لَمْ یَضُرُّوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ۔‘ ’’جان لو! اگر لوگ اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ تمھیں کچھ فائدہ پہنچائیں تو وہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے، مگر وہی جو اللہ نے تمھاری تقدیر میں لکھ دیا ہے۔ اور اگر لوگ اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ تمھیں کچھ نقصان پہنچائیں تو وہ تمھیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تم پر لکھ دیا ہے۔‘‘[1] یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ دنیا کا نظام اسباب پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ اسباب کا محتاج نہیں ہے، تاہم دنیا کا عمومی انتظام اسباب کے تحت ہی چل رہا ہے اور یہ سب اس کے حکم ومشیت ہی سے ہو رہا ہے، اس میں خیر کے اسباب بھی ہیں اور شر کے بھی۔ گویہ اسباب بذات خود خیر یا شر پیدا نہیں کر سکتے، ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے، خیر اور شر بھی اسی کے حکم سے پیدا ہوتا ہے، تاہم ہمیں حکم یہی ہے کہ ظاہری اسباب کے مطابق خیر ہی کے اسباب اختیار کریں اور شر کے اسباب سے مکمل اجتناب کریں۔ اسبابِ خیر اختیار کرنے کے باوجود نتائج حسب دل خواہ نہ نکلیں تو ایسا اللہ کی مشیت ہی سے ہوتا ہے۔ اس میں زمانے کا یا کسی اور کا دخل نہیں ہوتا، اسی لیے زمانے کو بھی بُرا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ 3 ھَامَۃ، سے مراد اُلّو کی نحوست ہے، یعنی اس کے دیکھنے کو نحوست قرار دیا جاتا تھا۔ اور بعض نے اس کا مطلب تناسخِ ارواح کا عقیدہ بیان کیا ہے جس میں جاہلیت کے [1] جامع الترمذي، صفۃ القیامۃ، باب [حدیث حنظلۃ…]، حدیث: 2516۔