کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 220
’’انھوں نے کہا: (اے صالح!) ہم نے تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے بدشگونی لی ہے۔‘‘[1] یعنی انھوں نے بھی حضرت صالح اور ان پر ایمان لانے والوں کو منحوس قرار دیا۔ سورئہ يس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین شخصوں کو ایک بستی میں دعوت و تبلیغ کے لیے بھیجا، انھوں نے جب جا کر بتلایا کہ ہم اللہ کے فرستادے ہیں اور ہمارا کام اللہ کا پیغام تم تک پہنچانا ہے تو بستی والوں نے ان پیغمبروں کو کہا: (قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٨﴾) ’’کہنے لگے: ہم نے تو تمھیں نامبارک (منحوس) دیکھا ہے۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمھیں سخت سزا بھگتنی ہوگی۔‘‘[2] بہر حال مشرک قوموں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ اللہ کے فرستادوں، رسولوں اور نبیوں کو (نعوذ باللّٰہ) منحوس قرار دیتی تھیں اور جب بھی ان پر کوئی آزمائش آتی تو اس کی وجہ وہ ان پاکباز ہستیوں کو قرار دیتیں، حالانکہ اگر نحوست تھی تو خود ان کے رویّے میں تھی، ان کی نافرمانی میں تھی اور ان کے اللہ کے احکام سے اعراض و استکبار میں تھی۔ ورنہ کوئی چیز بجائے خود شر ہے نہ خیر۔ وہ چیز شر بنتی ہے تو اللہ کے حکم سے، خیر بنتی ہے تو اللہ کے حکم اوراس کی مشیت سے۔ مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ تمام اختیارات صرف ایک اللہ کے پاس ہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ [1] النمل27: 47۔ [2] یٰسٓ 18:36۔