کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 219
کہ بات کو سمجھتے نہیں، آپ کو جو بھلائی پہنچے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور آپ کو جو برائی پہنچے، وہ آپ کے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔‘‘[1] یعنی برائی، انسانوں کی کوتاہیوں اور گناہوں کا نتیجہ ہے، جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ) ’’اور تمھیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمھارے ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔‘‘[2] (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا) ’’خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے لوگوں کے کرتوتوں کی وجہ سے تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض کرتوتوں کا مزا چکھائے۔‘‘[3] نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دوسرے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی لوگوں نے اسی طرح کا معاملہ کیا، ان پاک باز ہستیوں کو بھی ان کی قوم نے نحوست کا باعث قرار دیا، حالانکہ وہ سراپا خیر تھے، قرآن مجید میں ہے کہ فرعون کی قوم حضرت موسیٰ اور ان پر ایمان لانے والوں کو (نعوذ باللّٰہ) منحوس سمجھتی تھی: (وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ) ’’اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی تو وہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو منحوس قرار دیتے۔‘‘[4] قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا: (قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ ۚ) [1] النسآء 79,78:4۔ [2] الشورٰی 30:42۔ [3] الروم 41:30۔ [4] الأعراف 131:7۔