کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 218
پرندے کو اڑاتے اور وہ بائیں جانب کواڑتا تو کہتے کہ ہمارا یہ سفر یا کام صحیح نہیں ہو گا۔ یہ بدشگونی لے کر وہ سفر ہی اختیار نہ کرتے یا وہ کام ہی نہ کرتے جو ان کے پیش نظر ہوتا۔ حدیث میں ایسی بدشگونی لینے سے روکا گیا ہے کیونکہ اس کا تعلق توہمات اور مشرکانہ عقائد سے ہے، البتہ نیک فالی جائز ہے کیونکہ اس میں اللہ سے اچھی امید وابستہ کی جاتی ہے جو مستحسن ہے۔ ایک اور عادتِ بد اللہ کے نافرمان بندوں اور قوموں میں یہ پائی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے رسولوں اور اس کے نیک بندوں کے مجسمِ خیروجود اور شخصیت کو (نعوذ باللّٰہ) منحوس سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ ان کی فطرت کے بالکل مسخ ہو جانے کی دلیل ہے کہ جو افراد سراپا خیر اور باعثِ سعادت ہیں، ان کو باعثِ نحوست قرار دیا جائے، حالانکہ نحوست کا باعث خود ان کا رویہ اوراللہ کی نافرمانی کا شیوہ ہوتاہے، جیسے مشرکینِ مکہ کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللّٰهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ) ’’اور اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے توکہتے ہیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: (اے محمد!) یہ تیری طرف سے ہے۔‘‘[1] یعنی نعوذ باللہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نحوست کا نتیجہ بتلاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللّٰهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا ﴿٧٨﴾ مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ) ’’کہہ دیجیے: سب کچھ صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے [1] النسآء 78:4۔