کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 217
بدشگونی، نہ اُلّو کی نحوست یا روح کی پکار اور نہ ماہ صفر کی نحوست۔‘‘ [1] 1 اس حدیث میں کسی بھی بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کی گئی ہے جبکہ واقعہ یہ ہے کہ بعض بیماریاں یقینا متعدی ہوتی ہیں جیسا کہ خود اسی حدیث ہی میں ہے: مجذوم سے اس طرح بھاگو جیسے تم شیر سے بچنے کے لیے بھاگتے ہو۔ فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ کَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ ۔ حدیث کے اس آخری ٹکڑے سے معلوم ہوتا ہے کہ جذام (کوڑھ) کی بیماری ایسی ہے کہ وہ دوسروں کو لگ سکتی ہے، اس لیے کوڑھ کی بیماری میں مبتلا شخص سے دُور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جب یہ بات ہے تو پھر لَا عَدْوٰی کہہ کر متعدی ہونے کی نفی کیوں کی گئی ہے؟ تو اصل بات یہ ہے کہ اس میں صحتِ عقیدہ کا اہتمام کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کی مشیت اور حکم کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص کی بیماری کسی دوسرے شخص کو تب ہی لگے گی جب اللہ کی مشیت ہو گی، اللہ کی مشیت کے بغیر کسی کو کسی کی بیماری نہیں لگ سکتی۔ لیکن دوسری طرف احتیاط کی تاکید اوراسباب کی اہمیت کو بھی واضح کر دیا گیا ہے کیونکہ کائنات کا نظام اسباب ہی پر قائم ہے، اس لیے فرمایا: ’’مجذوم سے بھاگو۔‘‘ یہ ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے: آگ سے بچو۔ سیلاب کے آتے ہوئے ریلے کی بابت کہا جائے: اس سے بچو۔ کوئی دیوار یا چھت خستہ اور بوسیدہ ہو تو اس سے بچنے کی تاکید کی جائے کیونکہ ظاہری اسباب کی رُو سے یہ تمام باتیں ہلاکت کا باعث بن سکتی ہیں (مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ بچا لے۔) 2 دوسری بات اس حدیث میں یہ فرمائی گئی ہے کہ بدشگونی لینی بھی جائز نہیں ہے۔ عربوں میں یہ عادتِ بد بھی عام تھی، وہ سفر پر جاتے ہوئے یا کوئی کام کرتے ہوئے [1] صحیح البخاري، الطب، باب الجذام، حدیث: 5707۔