کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 216
حقیقت نہیں۔‘‘[1] مسنون اعمال قرآن و حدیث میں کہیں بھی ماہِ صفر میں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا، لہٰذا جو مسنون اعمال عام دنوں میں کیے جاتے ہیں، وہ اس ماہ میں بھی کیے جائیں۔ رسم و رواج ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا، نحوست کی وجہ سے اس میں شادیاں نہ کرنا، اس میں مٹی کے برتن توڑ ڈالنا، ماہِ صفر کے آخری بدھ، یعنی چہار شنبہ کو جلوس نکالنا اور شہروں اور بستیوں کے باہر بڑی بڑی محفلیں منعقد کر کے خاص قسم کے کھانے اور حلوے تقسیم کرنا، بیماریوں سے شفا کی نیت سے صبح صبح گھاس پر چلنا اور کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار بیمار ہوئے تھے تو اسی دن اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا دی تھی، پھر آپ نے لطیف اور عمدہ حلوہ کھایا تھا، مریضوں کو صحت یابی کے لیے تعویذ یا چھلا وغیرہ پہنانا اور چُوری کی رسم ادا کرنا وغیرہ۔ رسومات کا رد اس مہینے کی بابت لوگوں میں مذکورہ رسومات و بدعات رواج پا چکی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسے منحوس سمجھتے ہیں، جس کی تردید نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمائی: ’لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرَۃَ وَلَا ہَامَۃَ وَلَا صَفَرَ‘ ’’نہیں ہے (اللہ کی مشیت کے بغیر) بیماری کا متعدی ہونا اور نہیں ہے (جائز) [1] صحیح البخاري، الطب، باب الجذام، حدیث: 5707۔