کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 207
نہیں کہ بعد کے واقعات اسے غلط ثابت کردیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر نبی کے فرمان اور کاہن کی پیشین گوئی میں فرق باقی نہ رہے گا۔ کیا ہم اس حدیث کی مضحکہ خیز تاویلیں کر کے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ حدیث مع ترجمہ درج ذیل ہے: ’أَوَّلُ جَیْشٍ مِّنْ أُمَّتِي یَغْزُونَ مَدِینَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُورٌ لَّہُمْ‘ ’’میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جہاد کرے گا، وہ بخشا ہوا ہے۔‘‘[1] [1] صحیح البخاري، الجہاد والسیر، باب ما قیل في قتال الروم، حدیث: 2924۔