کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 206
اسے کافر جانتے ہیں اورامام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں، اپنا مسلک یہ بیان کرتے ہیں: ’’اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں۔ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر، لہٰذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔‘‘[1] فسق و فجور کے افسانے؟ رہی بات یزید کے فسق و فجور کے افسانوں کی تو اس کے بارے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے برادر اصغر محمد ابن الحنفیہ فرماتے ہیں: ’مَا رَأَیْتُ مِنْہُ مَا تَذْکُرُونَ وَقَدْ حَضَرْتُہٗ وَأَقَمْتُ عِنْدَہٗ فَرَأَیْتُہٗ مُوَاظِبًا عَلَی الصَّلَاۃِ مُتَحَرِّیًا لِّلْخَیْرِ یَسْأَلُ عَنِ الْفِقْہِ مُلَازِمًا لِّلسُّنَّۃِ‘ یعنی ’’تم ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہو میں نے ان میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے ان کے ہاں قیام کیا ہے اور میں نے انھیں پکا نمازی، خیر کا متلاشی، مسائل شریعت سے لگاؤ رکھنے والا اورسنت کا پابند پایا ہے۔‘‘[2] غزوۂ قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کے لیے بشارتِ نبوی علاوہ ازیں کم از کم ہم اہل سنت کو اس حدیث کے مطابق ہی یزید کو برا بھلا کہنے سے باز رہنا چاہیے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ قسطنطنیہ میں شرکت کرنے والوں کے متعلق مغفرت کی بشارت دی ہے اور یزید اس جنگ کا کمانڈر تھا۔ یہ بخاری کی صحیح حدیث ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے، کسی کاہن یا نجومی کی پیشین گوئی [1] احکام شریعت، حصہ دوم، ص: 88۔ [2] البدایۃ والنھایۃ: 233/8۔