کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 203
’فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُبَیْدُ اللّٰہِ (ابْنُ زِیَادٍ) لَا أَقْبَلُ مِنْہُ حَتّٰی یَضَعَ یَدَہٗ فِي یَدِي‘ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور ان کی طبع خود دار نے یہ گوارا نہ کیا، چنانچہ اس شرط کو مسترد کر دیا جس پر لڑائی چھڑ گئی اور آپ کی مظلومانہ شہادت کا یہ حادثۂ فا جعہ پیش آگیا۔[1] ’فَإِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ فَامْتَنَعَ الْحُسَیْنُ فَقَاتَلُوہُ… ثُمَّ کَانَ آخِرُ ذٰلِکَ أَنْ قُتِلَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔‘ اس روایت کے مذکورہ الفاظ جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بیعتِ یزید پر رضامندی کا اظہار فرمایا ’’الإصابۃ‘‘کے علاوہ تھذیب التھذیب (353-328/2)، تاریخ الطبري: 293/4، تہذیب تاریخ ابن عساکر (337-325/4)، البدایۃ والنھایۃ (175-170/8)، الکامل لابن الأثیر (283/3) اور دیگر کئی کتابوں میں موجود ہیں۔ حتی کہ شیعی کتابوں میں بھی ہیں۔ان کے دوسرے الفاظ بھی ہیں، تاہم نتیجے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ان تاریخی شواہد سے معلوم ہوا کہ اگر یہ کفر و اسلام کا معرکہ ہوتا تو کوفے کے قریب پہنچ کر جب آپ کو مسلم بن عقیل کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تھی۔آپ واپسی کا عزم ظاہر نہ فرماتے۔ پھر ان شرائطِ مصالحت سے، جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کے سامنے رکھیں، یہ بات بالکل نمایاں ہو جاتی ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ تحفظات تھے بھی تو آپ ان [1] الإصابۃ: 71/2، وتاریخ الطبري: 293/4۔