کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 202
’’چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کر لیا لیکن آپ کے ساتھ مسلم بن عقیل کے جو بھائی تھے، انھوں نے کہا کہ واللہ! ہم تواس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ ہم انتقام نہ لے لیں یا پھر خود بھی قتل ہو جائیں۔‘‘[1] اوریوں اس قافلے کا سفر کوفے کی طرف جاری رہا۔ ٭ پھر اس پر بھی تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب مقام کر بلا پر پہنچے تو گورنر کوفہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو مجبور کر کے آپ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ عمر بن سعدنے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے گفتگو کی تو متعدد تاریخی روایتوں کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی: ’اِخْتَرْ مِنِّي إِحْدٰی ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِثَغْرٍ مِّنَ الثُّغُورِ وَإِمَّا أَنْ أَرْجِعَ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَإِمَّا أَنْ أَضَعَ یَدِي فِي یَدِ یَزِیدَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ فَقَبِلَ ذٰلِکَ عُمَرُ مِنْہُ‘ یعنی ’’تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔ میں یا تو کسی اسلامی سرحد پر چلا جاتا ہوں یا واپس مدینہ منورہ لوٹ جاتا ہوں یا پھر میں (براہ راست جا کر) یزید بن معاویہ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہوں، (اس سے بیعت کر لیتا ہوں) عمر بن سعد نے ان کی یہ باتیں قبول کر لیں۔‘‘[2] ابن سعد نے خود منظور کر لینے کے بعد یہ تجویز ابن زیاد (گور نر کوفہ) کو لکھ کر بھیجی مگر اس نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے وہ (یزید کے لیے) میرے ہاتھ پر بیعت کریں۔ [1] تاریخ الطبري: 292/4 مطبعۃ الاستقامۃ، قاہرۃ: 1939ئ۔ [2] الإصابۃ: 71/2 الطبعۃ 1995ئ، دارالکتب العلمیۃ ۔