کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 199
اور سب کچھ کون کرے گا؟ آریہ نہیں، یہودی نہیں، عیسائی نہیں، ہندو نہیں، سکھ نہیں، پارسی نہیں، دشمن نہیں دوست، غیر مسلم نہیں اپنے کو مسلمان کہلانے والے اور مسلمانوں میں بھی اپنے کو سُنی کہنے والے اور اپنے اہل سنت ہونے پر فخر کرنے والے لوگ کریں گے اوراگر کوئی اس سارے ہنگامۂ عیش و عشرت کے خلاف اس یادِ ایام کے نہیں، تمسخر یادِ ایام کے خلاف زبان کھولے تو وہ مردود ہے، دشمن اہلِ بیت ہے، لامذہب ہے، بے دین ہے اور سب کے عقائد کو بگاڑنے والا ہے۔‘‘[1] اہل سنت کے غوروفکر کے لیے چند باتیں ماہ محرم کی ان بدعات و رسومات غیر شرعیہ کے علاوہ واقعۂ کربلا سے متعلق بھی اکثر اہل سنت کا زاویۂ فکر صحیح نہیں۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش خدمت ہیں، امید ہے کہ اہل سنت حلقے اس پر پوری سنجیدگی، متانت اور علم و بصیرت کی روشنی میں غور فرمائیں گے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اہل سنت کے خطباء اور واعظین فلسفۂ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو بالعموم اس طرح بیان کرتے ہیں جو خالصتاً رافضی آئیڈیالوجی کا مظہر ہوتا ہے اور اس کے متعلق یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ اسلام میں حق و باطل کا سب سے بڑا معرکہ تھا۔ واعظین خوش بیان یہ نہیں سوچتے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس دور خیر القرون میں، جبکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی ایک معتدبہ جماعت موجود تھی اور ان کے فیض یا فتگان تابعین تو بکثرت تھے، اس معرکے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہی اکیلے کیوں صف آرا ہوتے؟ معرکہ ہوتا حق و باطل اور کفرواسلام کا اور صحابہ و تابعین [1] منقول از ہفت روزہ المنبر فیصل آباد، شمارہ 6، دسمبر 1978ء ۔