کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 197
امام ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ امام ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’وَأَمَّا اتِّخَاذُہٗ مَأْتَمًا کَمَا تَفْعَلُہُ الرَّافِضَۃُ لِأَجْلِ قَتْلِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِيٍّ رضی اللّٰهُ عنہما فِیہِ، فَھُوَ مِنْ عَمَلِ مَنْ ضَلَّ سَعْیُہٗ فِي الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَھُوَ یَحْسَبُ أَنَّہٗ یُحْسِنُ صُنْعًا، وَلَمْ یَأْمُرِ اللّٰہُ وَلَا رَسُولُہٗ بِاتِّخَاذِ أَیَّامِ مَصَائِبِ الْأَنْبِیَائِ وَمَوْتِھِمْ مَأْتَمًا فَکَیْفَ بِمَنْ دُونَھُمْ؟‘ ’’عاشورا ءکے دن کو ماتم کا دن بنا لینا، جیسے روافض نے اس دن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت واقع ہونے کی بنا پر، اس کو ماتم کا دن بنا لیا ہے تو یہ ان لوگوں کا شعار ہے جن کا عمل و سعی اس دنیا ہی میں رائیگاں ہو گیا اور وہ سمجھتے یہ رہے کہ وہ کوئی اچھا کام کر رہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے مصائب کے ایام اور ان کی موت کو ماتم کا دن بنایا جائے، تو ان سے کم تر لوگوں کی موتوں کو کیسے ماتم کا دن بنایا جا سکتا ہے۔‘‘[1] مولانا عبدالماجد دریا بادی رحمۃ اللہ علیہ مولانا عبدالماجد دریا بادی لکھتے ہیں: ’’جوانانِ جنت کے سردار کی برسی اس ماہ میں ہر جگہ کے طول و عرض میں منائی جائے گی لیکن کیونکر اورکس طرح؟ [1] لطائف المعارف فیمالمواسم العام من الوظائف، ص: 53,52۔