کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 196
است۔ اول ساختن نقل قبور و مقبرہ و علم و شدہ وغیرہا۔ وایں معنی بالبداہت از قبیل بت سازی وبت پرستی است چہ ساختن نقل شکل قبورو مقبرہ و آنرا تعظیم کردن … اصل قبر و مقبرہ دانستن ازاطوار مشرکین صنم پرست است۔ حقیقت صنم پرستی ہمین است کہ شکلے ازدست خود تراشیدہ و ساختہ و نام شخصے برآں نہادہ با اوہماں معاملہ کہ با اصل بایدبا آن نقل کہ چوب یا سنگ تراشیدہ است بعمل آرند… و آنچہ اہل زمانہ با تعزیہ ہامی کنند ہرگز باقبور واقعیہ ہم نباید کردچہ جائے قبور جعلیہ وایں مبتدعان عبادت سجدہ و طواف کردہ صراحتہً خود رابسرحد شرک قبیح می رسانند و شدہ و علم و تعزیہ چوں مسجود و مطاف گرد دہمہ در معنی بت پرستی است۔ [1] خلاصۂ عبارت یہ ہے کہ پاک و ہند میں رافضیوں کے زیر اثر تعزیہ سازی کی جو بدعت رائج ہے یہ شرک تک پہنچا دیتی ہے کیونکہ تعزیے میں حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور پھر اس کو سجدہ کیا جاتا ہے اور وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جو بت پرست اپنے بتوں کے ساتھ کرتے ہیں اوراس معنی میں یہ پورے طور پر بت پرستی ہے۔ أعاذنا اللّٰہ منہ۔ اسی طرح مولانا شہید ماہ محرم میں قصۂ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے ذکر کو بھی مذموم و مکروہ قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’ذکر قصۂ شہادت است بشرح و بسط عقد مجلس کردہ بایں قصد کہ مردم آں رابشنوند و تأسفہانمایند و حسرتہا فراہم آرندوگریہ وزاری کنند۔ ہر چند در نظر ظاہرے خللے دراں ظاہر نمی شود۔امافی الحقیقت ایں ہم مذموم و مکروہ است۔‘‘[2] [1] صراط مستقیم، ص: 59۔ [2] صراط مستقیم، ص: 61۔