کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 192
بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی نکلیں۔ رافضیوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہلسنّت دم بخود اور خاموش رہے کیونکہ رافضیوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال 353ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔ اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کر سکے، چنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد رافضیوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کر دیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔‘‘[1] رافضیت کی ابتدا بنی بویہ نہایت متعصب رافضی تھے، چند دنوں تک وہ خاموش رہے، پھر ان کے تعصب کا ظہور ہونے لگا۔ دولت عباسیہ کے بہت سے وزراء اور متوسل، عجمی اور رافضی تھے لیکن ان میں سے کسی نے علانیہ رافضیت کی ترویج و اشاعت کی جرأت نہ کی تھی۔ معزالدولہ نے خلفاء کی قوت ختم کرنے کے ساتھ ہی بغداد میں رافضیت کی تبلیغ شروع کر دی اور 351ھ میں جامع اعظم کے پھاٹک پر مذکورہ تبرا لکھوایا۔(جس میں کنایوں میں حضرت معاویہ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عائشہ، حضرت عثمان اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم پر لعنت کی گئی۔) خلیفہ میں اس بدعت کو روکنے کی طاقت نہ تھی، کسی سُنّی نے رات کو یہ عبارت مٹا دی، معزالدولہ نے پھر لکھوانے کا ارادہ کیا لیکن اس کے وزیر مہلبی نے مشورہ دیا کہ صرف معاویہ کے نام کی تصریح کی جائے اور ان کے نام کے بعد وَالظّٰلِمِینَ لِآلِ رَسُولِ اللّٰہِ یعنی ’’آل رسول اللہ پر ظلم کرنے والوں‘‘ کا فقرہ بڑھا دیا جائے۔ [1] ’’تاریخ اسلام‘‘ اکبر خاں نجیب آبادی: 566/2 طبع کراچی۔