کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 189
مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی صراحت علاوہ ازیں اہل سنت عوام کی اکثریت مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی عقیدت کیش ہے لیکن تعجب ہے کہ اس کے باوجود ان کے اکثر لوگ محرم کی ان خود ساختہ رسومات میں خوب ذوق و شوق سے حصہ لیتے ہیں، حالانکہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے بھی ان رسومات محرم سے منع کیا ہے اور انھیں بدعت، ناجائز اور حرام لکھا ہے اور ان کودیکھنے سے بھی روکا ہے، چنانچہ ان کا فتویٰ ہے: ’’تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے۔‘‘[1] ان کا ایک مستقل رسالہ ’’تعزیہ داری‘‘ ہے، اس کے صفحہ4 پر لکھتے ہیں: ٭ ’’غرض عشرئہ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا۔‘‘ ٭ ’’یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خود ساختہ تصویریں بعینہ حضرات شہداء رضی اللہ عنہم اجمعین کے جنازے ہیں۔‘‘ ٭ ’’کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کر دیے۔ یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم میں دو وبال جداگانہ ہیں۔ اب تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کا نام ہے۔ قطعاً بدعت و ناجائز اور حرام ہے۔‘‘ صفحہ 11 پر لکھتے ہیں: ٭ ’’تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے۔ اگر نیاز دے کر چڑھائیں یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں۔‘‘ [1] عرفان شریعت، حصہ اوّل، ص: 15۔