کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 188
’لَیْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُیُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَی الْجَاھِلِیَّۃِ‘ ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے رخسار پیٹے، گریبان چاک کیے اور زمانۂ جاہلیت کے سے بین کیے۔‘‘[1] یہ صورتیں جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہیں، نوحہ و ماتم کے ضمن میں آتی ہیں، جو ناجائز ہیں، اس لیے فطری اظہار غم کے علاوہ اظہار غم کی جو بھی مصنوعی اور غیر فطری صورتیں ہوں گی، وہ سب ناجائز نوحے میں شامل ہوں گی، پھر ان نوحوں میں مبالغہ کرنا اور زمین و آسمان کے قلابے ملانا اور عبدو معبود کے درمیان فرق کو مٹا دینا تو وہی جاہلانہ شرک ہے جس کے مٹانے کے لیے ہی تو اسلام آیا تھا۔ رابعًا: تعزیہ پرست تعزیوں سے اپنی مرادیں اور حاجات طلب کرتے ہیں جو صریحاً شرک ہے۔ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں مظلومانہ شہید ہو گئے اور اپنے اہل و عیال کو ظالموں کے پنجے سے نہ بچا سکے تو اب بعد از وفات وہ کسی کے کیاکام آسکتے ہیں؟ خامسًا: تعزیہ پرست حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مصنوعی قبر، جس کو شبیہ کہا جاتا ہے، بناتے ہیں اور اس کی زیارت کو ثواب سمجھتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ یہ بھی بت پرستی ہی کی شکل ہے جو کہ حرام ہے جیسا کہ کسی بزرگ کا مقولہ بھی ہے: ’مَنْ زَارَ قَبْرًا بِلَا مَقْبُورٍ کَأَنَّمَا عَبَدَ الصَّنَمَ‘ یعنی ’’جس نے ایسی خالی قبر کی زیارت کی جس میں کوئی میت نہیں تو گویا اس نے بت کی پوجا کی۔‘‘[2] [1] صحیح البخاري، الجنائز، باب لیس منا من ضرب الخدود، حدیث: 1297۔ [2] رسالۃ تنبیہ الضالین، از مولانا اولاد حسن، والد نواب صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ ۔