کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 187
بدعت ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان میں سے بعض شرک و بت پرستی کے ضمن میں آجاتی ہیں، جیسے تعزیہ سازی ہے کیونکہ أولاً: تعزیے میں روح حسین رضی اللہ عنہ کو موجود اور انھیں عالم الغیب سمجھا جاتا ہے، تب ہی تو یہ لوگ تعزیوں کو قابل تعظیم سمجھتے اور ان سے مدد مانگتے ہیں، حالانکہ کسی بزرگ کی روح کو حاضرو ناظر جاننا اور عالم الغیب سمجھنا شرک و کفر ہے، چنانچہ حنفی مذہب کی معتبر کتاب فتاوی بزازیہ میں لکھا ہے: ’مَنْ قَالَ: أَرْوَاحُ الْمَشَایِخِ حَاضِرَۃٌ، تَعْلَمُ، یُکَفَّرُ‘ ’’جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ بزرگوں کی روحیں ہر جگہ حاضر و ناظرہیں اور وہ علم رکھتی ہیں، وہ کافر ہے۔‘‘ ثانیًا: تعزیہ پرست تعزیوں کے سامنے سرنیہوڑتے ہیں جو سجدے ہی کے ذیل میں آتا ہے اور کئی لوگ تو کھلم کھلا سجدے بجا لاتے ہیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنا، چاہے وہ تعبدی ہو یا تعظیمی، شرک صریح ہے، چنانچہ کتب فقہ حنفیہ میں بھی سجدہ لغیر اللہ کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شمس الائمہ سرخسی کہتے ہیں: ’إِنْ کَانَ لِغَیْرِ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلٰی وَجْہِ التَّعْظِیمِ کُفْرٌ‘ ’’غیر اللہ کو تعظیمی طور پر (بھی) سجدہ کرنا کفر ہے۔‘‘ اور علامہ قہستانی حنفی فرماتے ہیں: ’یُکَفَّرُ بِالسَّجْدَۃِ مُطْلَقًا‘ یعنی ’’غیر اللہ کو سجدہ کرنے والا کافر ہے چاہے عبادتًا ہو یا تعظیماً۔‘‘ [1] ثالثًا: تعزیہ پرست نوحہ خوانی و سینہ کوبی کرتے ہیں اور ماتم و نوحہ میں کلمات شرکیہ ادا کرتے ہیں، یہ سارے افعال غیر اسلامی ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] ردالمحتار: 383/6۔