کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 185
توسیع طعام کی بابت ایک من گھڑت روایت محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ اس دن جوشخص اپنے اہل و عیال پر فراخی کرے گا، اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر فراخی کرے گا، بالکل بے اصل ہے جس کی صراحت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمۂ محققین نے کی ہے، چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’10 محرم کو خاص کھانا پکانا، خصوصی طور پر زیادہ خرچ کرنا وغیرہ من جملہ ان بدعات و منکرات سے ہے جو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہیں نہ خلفائے راشدین سے اور نہ ائمۂ مسلمین میں سے کسی نے ان کو مستحب سمجھا ہے۔‘‘[1] اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول مذکورہ روایت کے متعلق امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ [لَا أَصْلَ لَہٗ، فَلَمْ یَرَہٗ شَیْئًا] ’’اس کی کوئی اصل نہیں، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو قابل حیثیت شے نہیں سمجھا۔‘‘[2] اسی طرح امام ابن تیمیہ کی کتاب اِقْتِضَائُ الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِیم (ص: 301، طبع مصر1950ء) میں اس کی صراحت موجود ہے۔ اور امام محمد بن وضاح نے اپنی کتاب ’’اَلْبِدَعُ وَالنَّھْيُ عَنْھَا‘‘ میں امام یحییٰ بن یحییٰ (متوفی 234ھ) سے نقل کیا ہے، انھوں نے کہا: ’’میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں مدینہ منورہ اور امام لیث، ابن القاسم اور ابن وہب کے ایام میں مصر میں موجود تھا اور یہ دن (عاشوراء) آیا، میں نے [1] فتاویٰ ابن تیمیۃ: 312/25۔ [2] منھاج السنۃ: 248/2اور فتاویٰ مذکور ۔