کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 184
٭ دس محرم کو تعزیوں اور ماتم کے جلوسوں میں ذوق و شوق سے شرکت کرنا اور کھیل کود (گٹکے اور پٹہ بازی) سے ان محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا، وغیرہ۔ ٭ ماہِ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس میں شادیاں نہ کرنا اور سیاہ لباس پہننا۔ ٭ ذوالجناح (گھوڑے) کے جلوس میں ثواب کا کام سمجھ کر شرکت کرنا۔ ٭ ذوالجناح (گھوڑے) کو متبرک سمجھنا، اس کو چومنا اوربچوں اور عورتوں کو اس کے نیچے سے گزارنے کو سعادت سمجھنا، وغیرہ۔ اور اسی انداز کی کئی چیزیں، حالانکہ یہ سب چیزیں بدعت ہیں جن سے نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اجتناب ضروری ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے: ’فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِینَ الْمَھْدِیِّینَ تَمَسَّکُوا بِھَا، وَعَضُّوا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأَمُورِ، فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ‘ ’’(مسلمانو!) تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اوردین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا، اس لیے کہ دین میں ہر نیا کام (چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘[1] یہ بات ہر کسی پر واضح ہے کہ یہ سب چیزیں صدیوں بعد کی پیداوار ہیں، بنابریں ان کے بدعات ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بدعت کو گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مذکورہ خود ساختہ رسومات کی شناعت و قباحت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ [1] سنن أبي داود، السنۃ، باب في لزوم السنۃ، حدیث: 4607۔