کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 183
میں لے کر فرمایا: ’اَللّٰھُمَّ! ھٰؤُلَائِ أَھْلِي‘ ’’اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔‘‘[1] جس کا مطلب ہے کہ یہ بھی میرے اہل بیت سے ہیں، ان پر کرم فرما! اس طرح تمام دلائل میں بھی تطبیق ہو جاتی ہے۔ عشرۂ محرم کی خصوصی بدعات عشرئہ محرم (محرم کے ابتدائی دس دن) میں جس طرح مجالس عزا اور محافل ماتم برپا کی جاتی ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ یہ سب اختراعی چیزیں ہیں اور شریعت اسلامیہ کے مزاج کے قطعاً مخالف۔ اسلام نے تو نوحہ و ماتم کے اس انداز کو ’’جاہلیت‘‘ سے تعبیر کیا ہے اوراس کام کو باعث لعنت بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا بتلایا ہے۔ بدقسمتی سے اہل سنت میں سے ایک بدعت نواز حلقہ اگرچہ نوحہ و ماتم کا رافضی انداز تو اختیار نہیں کرتا لیکن ان دس دنوں میں بہت سی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے جن سے روافض کی ہمنوائی اور ان کے مذہب باطل کا فروغ ہوتاہے، مثلاً: ٭ سانحۂ کربلا کو مبالغے اور رنگ آمیزی سے بیان کرنا۔ ٭ سانحۂ کربلاکے ضمن میں جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ہدف طعن و ملامت بنانے میں بھی تأمل نہ کرنا۔ ٭ دس محرم کو تعزیے نکالنا، انھیں قابل تعظیم و پرستش سمجھنا، ان سے منتیں مانگنا، حلیم پکانا، پانی یا دودھ وغیرہ کی سبیلیں لگانا۔ ٭ اپنے بچوں کو ہرے رنگ کے کپڑے پہنا کر انھیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا فقیر بنانا۔ [1] صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضی اللّٰه عنہ ، حدیث: 2404۔