کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 181
الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ سَیِّدَا شَبَابِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ‘ ’’بے شک یہ فرشتہ اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا، اس نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ وہ مجھے سلام کہے اور مجھے خوشخبری دے کہ بے شک فاطمہ ( رضی اللہ عنہا ) جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین ( رضی اللہ عنہما ) نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں۔‘‘[1] صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ، اہل بیت اور ان کے فضائل و مناقب کی طرف یہاں اجمالی اشارہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ سانحۂ کربلا کے بیان کے سلسلے میں افراط و تفریط سے کام نہ لیا جائے۔ نہ افراط کا شکار ہو کر تاریخی حقائق کا انکار کریں اور نہ تفریط میں مبتلا ہو کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کسی بھی صحابی کی تنقیصِ شان کا ارتکاب کریں۔ حضرت حسن اور حضرت حسین اور دیگر تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب، تفاوتِ درجات کے باوجود، قابل احترام ہیں، ان کی تنقیص و اہانت ضیاعِ ایمان کا باعث ہے۔ فنعوذ باللّٰہ من ھذا ۔ اہل بیت کون ہیں؟ ہم یہ بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ واضح کیا جائے کہ اہل بیت کون ہیں یا کون کون ہیں؟ اس لیے کہ اہل بیت کے مصداق میں بھی لوگوں نے افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔ ایک گروہ ازواج مطہرات کو اہل بیت نہیں سمجھتا، حالانکہ قرآن کریم کی رُو سے ازواج مطہرات اہل بیت نبوی ہیں۔ ایک دوسرا گروہ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو اہلِ بیت میں سے نہیں سمجھتا۔ ہماری رائے میں یہ دونوں ہی موقف غلط ہیں۔ اصل میں یہ [1] جامع الترمذي، المناقب، باب إن الحسن والحسین سیدا شباب أھل الجنۃ، حدیث: 3781۔