کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 180
سب و شتم کرو نہ ایذا پہنچاؤ۔ ذیل کی حدیث سے بھی اہلِ بیت کی فضیلت واضح ہوتی ہے۔ 6 حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’أُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِي أَھْلِ بَیْتِي‘ ’’میں تمھیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ حضرت حُصَیْن نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات اہل بیت میں سے نہیں ہیں؟ حضرت زید نے جواب دیا: ’نِسَاؤُہٗ مِنْ أَھْلِ بَیْتِہٖ، وَلٰکِنْ أَھْلُ بَیْتِہٖ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَۃَ بَعْدَہٗ قَالَ: وَمَنْ ھُمْ؟ قَالَ: ھُمْ آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عَقِیلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ عَبَّاسٍ…‘ ’’آپ کی ازواج مطہرات تو اہل بیت میں سے ہیں۔ لیکن آپ کے اہلِ بیت وہ بھی ہیں جن پر آپ کے بعد زکاۃ حرام ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کون (کون) ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: وہ آل علی، آلِ عقیل، آل جعفر اور آلِ عباس ہیں…۔‘‘[1] 7 حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’إِنَّ ھٰذَا مَلَکٌ لَمْ یَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ، اِسْتَأْذَنَ رَبَّہٗ أَنْ یُّسَلِّمَ عَلَيَّ وَیُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَۃَ سَیِّدَۃُ نِسَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ، وَأَنَّ [1] صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علي رضی اللّٰه عنہ …، حدیث: 2408۔