کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 176
گے تو میری امت پر وہ وقت آجائے گا جس کا وعدہ ان سے کیا جاتاہے۔‘‘[1] اس حدیث میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے وجود کو امت کے لیے حفاظت اور خیرو برکت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: ’یَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ، یَغْزُوفِئَامٌ مِّنَ النَّاسِ، فَیُقَالُ لَہُمْ: فِیکُمْ مَّنْ رَأٰی رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیُفْتَحُ لَہُمْ، ثُمَّ یَغْزُوفِئَامٌ مِّنَ النَّاسِ، فَیُقَالُ لَہُمْ: ہَلْ فِیکُمْ مَّنْ رَأٰی مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیُفْتَحُ لَہُمْ، ثُمَّ یَغْزُوفِئَامٌ مِّنَ النَّاسِ، فَیُقَالُ لَہُمْ: (ہَلْ) فِیکُمْ مَّنْ رَأٰی مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیُفْتَحُ لَہُمْ‘ ’’ایک وقت آئے گا، کچھ لوگو ں کی ایک جماعت جہاد کرے گی، ان سے پوچھا جائے گا: تم میں کوئی ایسا شخص (صحابی) ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ لوگ کہیں گے: ہاں، پس (اس ایک صحابی کی صلاح و فضیلت سے) ان کو فتح عطا کر دی جائے گی، پھر کچھ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی شخص (تابعی) ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہے؟ لوگ کہیں گے: ہاں، پس ان کو (اس تابعی کی صلاح و فضیلت سے) فتح عطا کر دی جائے گی، پھر کچھ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص (تبع تابعی) ہے جس نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے صحابی ٔ رسول کو دیکھا ہے؟ لوگ کہیں گے: ہاں، [1] صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ ، باب بیان أن بقاء النبي صلي اللّٰه عليه وسلم أمان لأصحابہ …، حدیث: 2531۔