کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 174
اور دوسری آیت میں ہے: (لَّقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ﴿١٨﴾) ’’البتہ تحقیق اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، چنانچہ ان کے دلوں میں جو (خلوص) تھا، وہ اس نے جان لیا، تو اس نے ان پر طَمانینت و تسکین نازل کی اور بدلے میں انھیں قریب کی فتح دی۔‘‘[1] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان میں شریک تمام صحابہ کو پکّا مومن قرار دیا ہے اور ان لوگوں کی تردید کی ہے جو ان کے دلوں میں نفاق کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس طرح دیگر متعدد قرآنی آیات ہیں جن میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت و عظمت بیان کی گئی ہے۔ احادیث رسول میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت احادیث میں بھی صحابہ کے بکثرت فضائل بیان کیے گئے ہیں، یہاں چند احادیث بیان کی جاتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ‘ ’’جس نے میرے صحابہ پر سب و شتم کیا، (انھیں جرح و تنقید اور برائی کا ہدف بنایا) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘[2] [1] الفتح 18:48۔ [2] المعجم الکبیر للطبراني: 142/12،والسلسۃ الصحیحۃ: 446/5، حدیث: 2340۔