کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 168
پھر ان شہادتوں کی بنا پر اگر اسلام میں ماتم و شیون کی اجازت ہوتی تو یقینا تاریخ اسلام کی یہ دونوں شہادتیں ایسی تھیں کہ اہل اسلام ان پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم و گریہ زاری کرتے، کم ہوتا۔ لیکن ایک تو اسلام میں اس ماتم و گریہ زاری کی اجازت نہیں، دوسرے یہ تمام واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آئے ہیں، اس لیے ان کی یاد میں مجالس عزا اور محافل ماتم قائم کرنا دین میں اضافہ ہے جس کے ہم قطعاً مجاز نہیں۔ رسومات و بدعات سالِ نو کے آغاز پر مبارک بادی کے پیغام یا جشنِ مسرت کا انعقاد اس وقت تقریباً ساری دنیا میں عیسائی کیلنڈر رائج ہے جس میں سالِ نو کا آغاز جنوری سے ہوتا ہے، ایک دو اسلامی ملکوں کو چھوڑ کر باقی اسلامی ملکوں میں بھی یہی عیسائی تقویم نافذ ہے جو مسلمان حکمرانوں کی بے حسی اور اسلامی شعائر کی قدرو اہمیت سے بے اعتنائی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں عیسائی سالِ نو کے آغاز پر اسلامی ملکوں میں بھی ایک طبقہ اسی طرح طرب و مسرت کا اظہار کرتا یا تبریک و تہنیت کا پیغام دیتا یا ’’ہَیْپی نیوائیر‘‘ کا طربیہ الاپتا ہے، جیسے اس موقع پر مغربی ملکوں میں ہوتا ہے، حالانکہ ایسا کرنا تشبُّہ بالکُفّار (کافروں کی مشابہت اختیار کرنا) ہے جس پر حدیث میں نہایت سخت وعید آئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘ ’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انھی میں سے ہو گا۔‘‘[1] [1] سنن أبي داود، اللباس، باب في لبس الشھرۃ، حدیث: 4031۔