کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 167
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خاصی تفصیل سے اس نکتے پر بحث کی ہے اور لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ کے اسی مفہوم کو راجح قرار دیا ہے کہ 9اور 10محرم کا روزہ رکھا جائے نہ کہ صرف 10محرم کا۔ نو کا روزہ نہ رکھا جا سکے تو 10کے ساتھ 11محرم کا روزہ ملا لیا جائے کیونکہ فتح مکہ کے بعد آپ اہل کتاب کی مخالفت کو پسند فرماتے تھے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔ (فتح الباري: 311/4، طبع دارالسلام) محرم کی حرمت کے متعلق غلط خیال کی تردید یہ بھی خیال رہے کہ اس مہینے کی حرمت سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعۂ شہادت سے قبل ہی ثابت چلی آرہی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مہینہ، اس لیے قابل احترام ہے کہ اس میں حضرت حسین کی شہادت کا سانحۂ دلگداز پیش آیا تھا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے۔ یہ سانحۂ شہادت تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پچاس سال بعد پیش آیا اور دین کی تکمیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں کر دی گئی تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا)[1] اس لیے یہ تصور اس آیت قرآنی کے سراسر خلاف ہے، پھر خود اسی مہینے میں اس سے بڑھ کر ایک اور سانحۂ شہادت اور واقعۂ عظیم پیش آیا تھا، یعنی یکم محرم کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ۔ اگر بعد میں ہونے والی ان شہادتوں کے منانے کی شرعاً کوئی حیثیت ہوتی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت اس لائق تھی کہ اہل اسلام اس کا اعتبار کرتے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ایسی تھی کہ اس کی یاد گارمنائی جاتی۔ [1] المآئدۃ 5:3۔