کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 165
کرنے سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں صحیح مسلم کی مذکورہ حدیث میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی 9محرم کا روزہ رکھتے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں۔ جبکہ واقعہ ایسا نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 9 محرم کا روزہ نہیں رکھا، صرف آئندہ سال رکھنے کے ارادے کا اظہار فرمایا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ’’ ہاں‘‘ کہنے سے بھی اسی امر کا اثبات ہوتا ہے کہ عاشورۂ محرم کا روزہ 9محرم سے رکھا جائے، یعنی 10 اور نو محرم دونوں کا روزہ، چنانچہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح مسلم کی مذکورہ روایت، جس میں 9محرم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے کے استفسار پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اثبات میں جواب دیا، نقل کر کے لکھتے ہیں: ’وَکَأَنَّہٗ رضی اللّٰهُ عنہ أَرَادَ صَوْمَہٗ مَعَ الْعَاشِرِ وَأَرَادَ بِقَوْلِہٖ فِي الْجَوَابِ نَعَمْ مَا رُوِيَ مِنْ عَزْمِہٖ صلي اللّٰه عليه وسلم عَلٰی صَوْمِہٖ‘ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے 9محرم کے روزے سے مراد یہ لی ہے کہ اسے دس محرم کے روزے کے ساتھ رکھا جائے اور انھوں نے سوال کے جواب میں جو ’’ہاں‘‘ کہا، اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 9محرم کا روزہ رکھنے کے عزم کا اظہار فرمایا۔‘‘ اس کے بعد امام بیہقی فرماتے ہیں کہ ہماری اس بات کی وضاحت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا یہ قول کر دیتا ہے: ’صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ وَ خَالِفُوا الْیَھُودَ‘ ’’9اور 10محرم کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔‘‘[1] [1] السنن الکبرٰی للبیھقي مع الجوھر النقي: 287/4، طبع قدیم ۔