کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 163
کے ساتھ 9 محرم کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا جس پر عمل کرنے کا موقع آپ کو نہیں ملا۔ بعض آثار سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے، جیسے مُصنَّف عبدالرزاق میں صحیح سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’خَالِفُوا الْیَھُودَ وَ صُومُوا التَّاسِعَ وَالْعَاشِرَ‘ ’’یہودیوں کی مخالفت کرو اور نو اور دس محرم کا روزہ رکھو۔‘‘[1] بلکہ بقول امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ مرفوع حدیث کے بعض طرق میں لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ (میں نو محرم کا روزہ رکھوں گا) کے بعد یہ الفاظ بھی ہیں مَعَ الْعَاشِرِ (10 محرم کے روزے کے ساتھ۔) ملاحظہ ہو (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ: 312/25) امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے مَعَ الْعَاشِرِ کے ایک طریق کی طرف جو اشارہ فرمایا ہے، وہ اگر ثابت ہو جاتا ہے تو یہ ٹکڑا فیصلہ کن ہے۔ لیکن ہماری معلومات کی حد تک یہ ٹکڑا کتب حدیث میں نہیں ملتا، امام صاحب نے غالباً اپنے حافظے کی بنیاد پر اس کا حوالہ دے دیا ہے۔ بہرحال اس سے یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ امام صاحب کا موقف بھی وہی ہے جس کی صراحت ہم کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں 9 اور دس محرم دونوں دنوں کا روزہ رکھنا ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا صحیح مفہوم و مطلب ہے، اس لیے کہ آپ نے دس محرم کے روزے کی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے کہ یہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے، نیز اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات کی خوشی میں رکھنے کو یہودیوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو اس کا زیادہ حق دار بھی قرار دیا ہے۔ یہ دونوں باتیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ دس محرم کے روزے کا استحباب تو شبہے سے بالاتر ہے، پھر اس کو [1] المصنف لعبد الرزاق: 287/4، حدیث: 7839۔