کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 161
’أَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَھْرُ اللّٰہِ الْمُحَرَّمُ‘ ’’رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔‘‘[1] (2) خصوصاً یوم عاشورہ کا روزہ رکھا جائے۔ اس سے گزشتہ سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’وَصِیَامُ یَوْمِ عَاشُورَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّکَفِّرَ السَّنَۃَ الَّتِي قَبْلَہٗ‘[2] (3) اس مہینے میں ظلم و زیادتی سے اہتمام کے ساتھ بچنا چاہیے، بچنا تو ہر وقت چاہیے لیکن حرمت والے مہینوں میں گناہ کا جرم بڑھ جاتا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ) ’’ان مہینوں میں تم اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو۔‘‘ [3] عاشورۂ محرم کی تعیین میں غلط فہمی کا ازالہ بالخصوص عاشورۂ محرم کے روزے کی حدیث میں یہ فضیلت آئی ہے کہ یہ ایک سال گذشتہ کا کفارہ ہے۔[4] اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خصوصیت سے روزہ رکھتے تھے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت میں فرمایا: ’صُومُوا یَوْمَ عَاشُورَآئَ، وَخَالِفُوا فِیہِ الْیَھُودَ، صُومُوا قَبْلَہٗ یَوْمًا، أَوْ بَعْدَہٗ یَوْمًا‘ [1] صحیح مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم، حدیث: 1163۔ [2] صحیح مسلم، الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ…، حدیث: 1162۔ [3] التوبۃ 36:9۔ [4] صحیح مسلم، الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ…، حدیث: 1162۔