کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 160
حرمت والے ہیں۔‘‘[1] ان چار حرمت والے مہینوں کی وضاحت اور تعیین کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اَلسَّنَۃُ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا، مِنْھَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَۃٌ مُّتَوَالِیَاتٌ: ذُوالْقَعْدَۃِ، وَذُوالْحِجَّۃِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَیْنَ جُمَادٰی وَشَعْبَانَ‘ ’’سال میں بارہ مہینے ہیں، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، تین مسلسل (لگاتار) ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور (چوتھا) رجبِ مضر ہے جو شعبان اور جمادی (الأخری) کے درمیان ہے۔‘‘[2] (2) شھر اللّٰہ: نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو شہر اللہ (اللہ کامہینہ) کہا ہے۔ یہ اعزاز کسی اور مہینے کو حاصل نہیں ہے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’أَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ، شَھْرُ اللّٰہِ الْمُحَرَّمُ‘ ’’رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔‘‘[3] (3)محرم کے مہینے میں نفلی روزے رکھنا رمضان کے مہینے کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے ہیں جیسا کہ اوپر حدیث میں مذکور ہے۔ (4) محرم قمری سال کا پہلا مہینہ ہے جیسا کہ ’’سن ہجری کا آغاز‘‘ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسنون اعمال (1) محرم میں کثرت سے نفلی روزے رکھنے چاہئیں کیونکہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [1] التوبۃ 36:9۔ [2] صحیح البخاري،بدء الخلق، باب ماجاء في سبع أرضین، حدیث: 3197، وصحیح مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب تغلیظ تحریم الدمائ…، حدیث: 1679۔ [3] صحیح مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم، حدیث: 1163۔