کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 157
محرم الحرام ماہ محرم ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعۂ ہجرت پر ہے لیکن اس اسلامی سن کا تقرر اور آغازِ استعمال 17ھ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت سے ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ یمن کے گورنر تھے، ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فرامین آتے تھے جن پر تاریخ درج نہیں ہوتی تھی، 17ھ میں حضرت ابو موسیٰ کے توجہ دلانے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو اپنے ہاں جمع فرمایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا، تبادلۂ افکار کے بعد قرار پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعۂ ہجرت کوبنایا جائے اور اس کی ابتدا ماہ محرم سے کی جائے کیونکہ 13 نبوت کے ذوالحجہ کے وسط میں بیعت عقبہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا عزم و منصوبہ طے کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا۔[1] مسلمانوں کا یہ اسلامی سن بھی اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے ایک خاص امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ مذاہب عالم میں اس وقت جس قدر سنین مروج ہیں وہ عام طور پر یا توکسی مشہور انسان کے یوم ولادت کی یاد دلاتے ہیں یا وہ کسی قومی واقعۂ مسرت و شادمانی سے وابستہ ہیں کہ جس سے نسل انسانی کو بظاہر کوئی فائدہ نہیں، مثلاً: مسیحی سن [1] فتح الباري، مناقب الأنصار، باب التاریخ، من أین أرَّخوالتاریخ؟: 334/7، حدیث: 3934، طبع دارالسلام ۔