کتاب: مسئلہ رؤیتِ ہلال اور 12 اسلامی مہینے - صفحہ 150
خود مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے قیام کا پس منظر بھی یہی ہے کہ ایوب خاں کے دور میں ایک دو مرتبہ حکومت نے اپنے اعلان کے مطابق عید منوانے کی کوشش کی جوبری طرح ناکام ہوئی اور عوام نے علماء کی رائے پر ہی مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس تجربے کی روشنی میں بالآخر حکومت نے رؤیتِ ہلال کمیٹی قائم کی اور یہ معاملہ کلیتًا اس کمیٹی کے ذریعے سے علماء کے سپرد کردیا۔ رؤیتِ ہلال کے قیام کے بعدیہ معاملہ نہایت خوش اسلوبی سے چل رہا ہے۔ کمیٹی کے فیصلے میں بعض دفعہ تاخیرہوجاتی یا اس کا فیصلہ ہدفِ تنقید بنتا ہے، تو اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ یا تو حکومت کے ناقص انتظامات تاخیر کا سبب بنتے ہیں یا ناقص اطلاعات اس کا باعث ہیں۔ اصل ضرورت ان وجوہات کا خاتمہ ہے جن سے تاخیر ہوتی ہے یا اگرفیصلہ ہدفِ تنقید بنتا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رؤیتِ ہلال کمیٹی کا وجود ہی تحلیل کردینا چاہیے جس کا کوئی قصور نہیں، کیونکہ کمیٹی کا کام صرف چاند دیکھنا نہیں ہے بلکہ ’’چاند دیکھے جانے یا نہ دیکھے جانے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ‘‘ اور کمیٹی اپنا یہ کام، یعنی رؤیت کا فیصلہ کرنے میں دستیاب وسائل کی حد تک اپنی ممکنہ مساعی بروئے کار لاتی ہے، اس میں بالعموم کوتاہی نہیں کرتی۔ کمیٹی کی بہتر کارکردگی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت اس تاخیر کے خاتمے یا غلط فیصلے کے اِزالے کے لیے مزید چند باتوں کا اہتمام ضروری ہے تاکہ کمیٹی کی راہ میں جو مشکلات ہیں، وہ دُور ہوں اور اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جاسکے اور یہ دو اقدامات ہیں جو حسب ذیل ہیں: ایک یہ کہ اگر مصدقہ اطلاعات ایسی ملیں جن سے کمیٹی کا فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہو تو ایسا انتظام ہونا چاہیے کہ کمیٹی کے ارکان دوبارہ جمع ہوں اور تحقیق وتفتیش کے بعد اگر